بنگلورو،10؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کانگریس صدر راہل گاندھی نے آج کہاہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کو’ خطرہ ‘ محسوس ہوتاہے اوروزیراعظم بننے کی ان کی منشاظاہرکرنے کے بعد مودی کا ان پر حملہ صرف لوگوں کی توجہ بھٹکانے کا طریقہ ہے۔
راہل گاندھی نے یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی کے غیر ملکی اصلیت کے مسئلہ پربلا وجہ آواز اٹھانے پر مودی پر حملہ بولتے ہوئے کہاہے کہ ان کی ماں اطالوی ہیں لیکن وہ دیگر ہندوستانیوں سے زیادہ ہندو ستانی ہیں ۔ وزیر اعظم بننے کی منشا ظاہر کرنے کے بعد مودی کے ان پر مسلسل ہو رہے حملوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں راہل نے کہا کہ یہ انتخابات راہل پر نہیں ہیں، میں نے اب وزیر اعظم سے نمٹنا سیکھ لیاہے۔جب وہ جواب پر قدرت نہیں رکھتے ہیں تو وہ لوگوں کو غیر معقول باتوں سے توجہ بھٹکاتے ہیں ۔
دراصل راہل نے حال ہی میں کہا کہ اگر ان کی پارٹی سال2019 کے عام انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرتی ہے تو وہ وزیر اعظم بنیں گے جس کے بعد مودی نے ان پرتنقیدکی ہے۔ مودی نے اپنی ایک انتخابی ریلی میں حیرت کا اظہار کیا کہ کیا ملک اس عہدے کے لئے بہت نادان اور نامدار لیڈرکوکبھی قبول کرے گا۔ راہل نے سونیا کے غیر ملکی نژادہونے کا ذکر کرنے کے لئے مودی کی تنقید کی اور کہا کہ میری ماں اطالوی ہیں، انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہندوستان میں گزارا ہے۔ وہ کئی ہندوستانیوں سے زیادہ ہندوستانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ملک کے لئے اپنی زندگی قربان کی ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے دشمنوں سے مقابلہ آرائی کرتی ہوئی کئی طرح کی ر وحانی تکالیف برداشت کی ہیں۔ جب مودی اس قسم کا غیر معیاری احمقانہ تبصرہ کرتے ہیں، تو اس سے ان کی شخصیت اور اس کے معیار کاپتہ چلتا ہے۔ اگر انہیں اس قسم کی تبصرہ بازی میں لطف آتا ہے تو مجھے خوشی ہے، اور میں ان کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔ مودی نے اپنی انتخابی ریلی میں سونیا کے غیر ملکی نژاد ہونے کا مسئلہ اٹھایا تھا اور چیلنج کیا تھا کہ کانگریس کے سربراہ کرناٹک حکومت کی کامیابیوں کے بارے میں کسی بھی زبان میں، خواہ ان کی مادری زبان یا ان کی والدہ کی زبان (اطالوی زبان) میں ہی 15 منٹ کی گفتگوکرلیں ۔
راہل گاندھی نے کرناٹک میں طوفانی انتخابی تشہیر کو روک دیتے ہوئے نامہ نگاروں سے بات چیت میں گوتم بدھ کی زندگی سے منسلک ایک واقعہ کاذکرکیا۔انہوں نے کہا کہ ایک بار بودھ اپنے ایک شاگرد کے ساتھ بیٹھے تھے تبھی ایک شخص نے انہیں برا بھلاکہا اور چیخا چلایا۔جب بودھ نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا تو شاگرد نے ان کے خاموش رہنے کا سبب پوچھا۔ اس پر انہوں نے کہا ناراضگی اس شخص کی ہے اور اس نے طیش میں آکر ناروا الفاظ کا جواب نہیں دیا ؛کیوں کہ اس نے جو الفاظ کہے ہیں وہ لفظ خود اس سے ہی جاکر مل گئے ۔
راہل گاندھی نے کہا کہ مودی کے اندر غصہ اور بیجا اشتعال ہے ۔ انہیں سبھوں کے تئیں اشتعال ہے ،صرف میں ہی نہیں ۔ان کومجھ خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ ان کا اشتعال و طیش خو د ان کے لیے مسئلہ ہے ، میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ مودی کے ذاتی حملوں کے متعلق را ہل گاندھی نے کہا کہ میں نے ابھی ان سے نمٹنا سیکھ لیا ہے، جب انہیں لگتا ہے کہ میں ایسی جگہ آرہا ہوں اور جہاں بچنے کی کوئی جگہ نہیں ہے تو وہ غیر معیاری زبان اور ذاتی کردار کشی کے ذریعہ توجہ بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں ، انہیں توجہ بھٹکانے اور غصہ پیدا نہیں کرنے دیں گے۔یہ پوچھے جانے پر کہ جب بھی وہ کسی کی عبادت گاہ بطور خاص مندر جاتے ہیں تو بی جے پی انہیں ’انتخابی ہندو ‘ قرار دیتی ہے انہوں نے کہا کہ جب میں کسی مندر میں جاتا ہوں تو بی جے پی خو د کو کمزور اور بے بس محسوس کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بی جے پی ’ہندو‘ لفظ کا مطلب جانتے ہیں اور انہیں انتخابی ہندو کہنا ان کی ذہنی سراسیمگی اور دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے ۔ رافیل لڑاکا طیارے کی خریداری پر جس کے بارے میں بی جے پی اور وزیر اعظم نے اچھے سودا کا دعوی کیا ہے،مگر گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے 45 ہزار کروڑ قرض والے اس کاروباری دوست کے لئے یہ بہت اچھا سودا ہے جس نے آپ کی زندگی میں کبھی ہوائی جہاز نہیں بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے ہر ہوائی جہاز کے لئے 1500 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جبکہ یو پی اے حکومت نے 700 کروڑ روپے پر کام کیا تھا۔
کانگریس صدر نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کی خارجہ پالیسی کو برباد کر دیا ہے۔ راہل نے دلتوں کے قتل اور ان پر حملوں میں خاموش رہنے کے لئے مودی کی سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ جب روہت ویملا کی موت ہوتی ہے، وہ ایک لفظ نہیں کہتے۔ جب اونا میں دلتوں کو پیٹا جاتا ہے وہ خاموش رہتے ہیں۔ کانگریس صدر نے بی جے پی پرحملے جاری رکھتے ہوئے کرناٹک کے ریڈی برادران کو بچانے کا الزام بی جے پی اور وزیر اعظم پر لگایا ۔ انہوں نے کہا کہ ریڈی برادران کو بچانے کے لیے حکومت نے مرکزی تفتیشی بیورو کو ’مرکزی غیر قانونی کانکنی بیورو‘ میں تبدیل کر دیا ہے ؛لیکن عوام ہوشیارباش ہیں ان کو اس کا سبق ضرور سکھائیں گے۔